(سورۃ ٱلْجِنّ (مکی، آیات 28

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ


بنام خدائے رحمن رحیم


1قُلۡ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ فَقَالُوۡۤا اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا ۙ 515

1۔ کہدیجئے: میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا اور کہا: ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے



1یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ؕ وَ لَنۡ نُّشۡرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ 525

2۔ جو راہ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم کسی کو ہرگز اپنے رب کا شریک نہیں بنائیں گے۔



1وَّ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ 535

3۔ اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بلند ہے اس نے نہ کسی کو زوجہ بنایا اور نہ اولاد،



1وَّ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوۡلُ سَفِیۡہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا ۙ 545

4۔ اور یہ کہ ہمارے کم عقل لوگ اللہ کے بارے میں خلاف حق باتیں کرتے ہیں۔



1وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ تَقُوۡلَ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۙ 555

5۔ اور یہ کہ ہمارا خیال تھا کہ انسان اور جن کبھی بھی اللہ کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے۔



1وَّ اَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الۡاِنۡسِ یَعُوۡذُوۡنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الۡجِنِّ فَزَادُوۡہُمۡ رَہَقًا ۙ 565

6۔ اور یہ کہ بعض انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس نے جنات کی سرکشی مزید بڑھا دی ،



1وَّ اَنَّہُمۡ ظَنُّوۡا کَمَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا ۙ 575

7۔ اور یہ کہ انسانوں نے بھی تم جنات کی طرح گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی کو دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔



1وَّ اَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَ فَوَجَدۡنٰہَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِیۡدًا وَّ شُہُبًا ۙ 585

8۔ اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہرے داروں اور شہابوں سے بھرا ہوا پایا۔



1وَّ اَنَّا کُنَّا نَقۡعُدُ مِنۡہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمۡعِ ؕ فَمَنۡ یَّسۡتَمِعِ الۡاٰنَ یَجِدۡ لَہٗ شِہَابًا رَّصَدًا ۙ 595

9۔ اور یہ کہ پہلے ہم سننے کے لیے آسمان کے مقامات میں بیٹھا کرتے تھے، اب اگر کوئی سننا چاہتا ہے تو وہ ایک شعلے کو اپنی کمین میں پاتا ہے۔



1وَّ اَنَّا لَا نَدۡرِیۡۤ اَشَرٌّ اُرِیۡدَ بِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِہِمۡ رَبُّہُمۡ رَشَدًا ۙ 5105

10۔ اور یہ کہ ہمیں نہیں معلوم کہ (اس سے) اہل زمین کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔