(سورۃ يس (مکی، آیات 83

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ


بنام خدائے رحمن رحیم


1یٰسٓ ۚ 515

1۔ یا، سین ۔



1وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡحَکِیۡمِ ۙ 525

2۔ قسم ہے قرآن حکیم کی



1اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ 535

3۔کہ آپ یقینا رسولوں میں سے ہیں،



1عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ؕ 545

4۔ راہ راست پر ہیں۔



1تَنۡزِیۡلَ الۡعَزِیۡزِ الرَّحِیۡمِ ۙ 555

5۔ (یہ قرآن) غالب آنے والے مہربان کا نازل کردہ ہے،



1لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُہُمۡ فَہُمۡ غٰفِلُوۡنَ 565

6۔تاکہ آپ ایک ایسی قوم کو تنبیہ کریں جس کے باپ دادا کو تنبیہ نہیں کی گئی تھی لہٰذا وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔



1لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤی اَکۡثَرِہِمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ 575

7۔بتحقیق ان میں سے اکثر پر اللہ کا فیصلہ حتمی ہو چکا ہے پس اب وہ ایمان نہیں لائیں گے۔



1اِنَّا جَعَلۡنَا فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ اَغۡلٰلًا فَہِیَ اِلَی الۡاَذۡقَانِ فَہُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ 585

8۔ ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے) ہیں اسی لیے ان کے سر اوپر کی طرف الٹے ہوئے ہیں۔



1وَ جَعَلۡنَا مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ سَدًّا وَّ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ سَدًّا فَاَغۡشَیۡنٰہُمۡ فَہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ 595

9۔ اور ہم نے ان کے آگے دیوار کھڑی کی ہے اور ان کے پیچھے بھی دیوار کھڑی کی ہے اور ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے لہٰذا وہ کچھ دیکھ نہیں پاتے ۔



1وَ سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ 5105

10۔ اور ان کے لیے یکساں ہے کہ آپ انہیں تنبیہ کریں یا نہ کریں وہ (ہر حالت میں) ایمان نہیں لائیں گے۔